সবুজ বাংলা ব্লগ

সবুজ বাংলা ব্লগ

কবিতা

ام ابیھا ماں زھرا

কবিতা - ৬ মে, ২০১৬
ام ابیھا ماں زھرا
 
اھل بیت کی محبت ایمان اھل سنت کا صحیح عقیدہ امام الثانی والثالثی خاندان رسول پاک انکی اولاد ممدوح رسول اللہ کی نصب جاری ہے ماں زھرا کی اولاد دونوں سے اولاد رسول جو ہیں زمین پہ وہ ہیں سید رسول کا پیغام اللہ پاک نے فرمایا کلام پاک میں حبیب اللہ دینگے فائدہ تمھیں تمھارے لیئے فرض واجب ان کی خدمت میں ہو جاؤ فنا ام ابیھا ماں زھرا راجار باغ کے مرشد اولاد ہیں انکی ان کو چاکر تسکین سارا عالم مرشدی محبت میں ہم سب غنی. -محمد شوکت حسین عفی عنہ ام ابیھا ماں زھرا ولادت انکی بیس جمادی الاخری اھلا سھلا سیدتنا کل کائنات کی أنکھوں کا تارا آپ تو رسولی لخت جگر تمام عالم میں سب سے بہتر آپ ہں نبی جی کا نور مبارک آپ کے اھل پاک نور کی کان رسول اللہ نے فرمایا ام ابیھا آپ ہیں میرے جسم مبارک کا ٹکڑا آپکو کرے گا جو ناراض ہوگا نافرمان وہ میرا. ایک دن رسول اللہ نے چپکے سے کہا سیدا جنت میں آپ میرے وصال شریف کے بعد سب سے پہلے جائنگی دیدار میں ممدوح آقاکی عشقی نظر میں میں چاھوں کرم یا ممدوح کیجے آپکا دیوانا آپکے عشق میں آجاتا ہے میرا نورانی زاتی کرم بیماری بڑھ رہی میری ہر دم آقا کی عشق کی بیماری شفا نہیں میری شاھی زخم کی بنا آپ کے نظر کرم -محمد شوکت حسین عفی عنہ ممدوح آقاکی عشقی نظر میں رھنا چہتا ہو ں میں غلام آقاکے قدم چومتے چومتے چھوٹ جاے حیاتی دم زندگی چاھوں عشقی دامن میں نہ چاھوں شان و شوکت میں ہوں فقیر آپ کے در یہ چاھوں آپ کی نظر انعام
 

0 টি মন্তব্য

এখনো কোনো মন্তব্য নেই।

মন্তব্য করতে হলে লগ ইন করুন।